اہم خبریں

بنگلہ دیش نامنظور تحریک کا نعرہ بلند کرنے والا، انجمن طلبہ اسلام کا کارکن عبدالواحد بلوانی بچھڑ گیا۔ تحریر معین نوری

 


 پاکستانی سیاستدانوں کی ہوس اقتدار، بھارتی سازشوں، مشرقی پاکستان سے زمینی عدم رابطہ اور  ناقص دفاعی پالیسوں کے نتیجے میں 16دسمبر1971ء کو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سانحہ رونما ہوا۔  یہ تاریخ پاکستان کو وہ المناک سانحہ ہے جس پر پاکستان بنانے والوں کی آ نکھیں آنسووں سے تر تھیں۔ یہ پاکستان کی تاریخ کو وہ شرم ناک باب ہے جو مطالعہ پاکستان کی نصابی کتب سے سنسرڈ ہے۔  اس موقع پر قوم کا مورال بلند کرنے کے لیے جمعہ  8دسمبر 1972ء کوناظم پنجاب محمد اقبال اظہری کی قیادت میں لاہور میں گول باغ سے اسمبلی تک بہت بڑا جلوس نکالا گیا۔ مظاہرین نے اپنے ہاتھو ں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر،”بنگلہ دیش نا منظور۔ بچہ بچہ کٹ مرے گا،بنگلہ دیش نہیں بنے گا۔ انور کمال راجپوت کو رہا کرو۔ہماری آن دو۔پورا پاکستان دو۔ حمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ شائع کی جائے۔غدار یحییٰ کو پھا نسی پر چڑ ھاؤ“،تحریر تھا۔ پنجاب کے گورنر غلام مصطفی کھر نے اس جلوس کو مال روڈ پر آنے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی، بقو ل محمد اقبال اظہر ی ”ڈی ایس پی پولیس کی بھاری نفری لے کر آیا اور ہمیں کہا کہ اگر جلوس روڈ پر آیا تو ہمیں گولی چلانے کا حکم ہے، مگر ہم نے تمام دھمکیوں کے باوجود مال روڈ پر جلوس نکالا جو اسمبلی تک گیا“ (روزنامہ وفاق، لاہور، 9دسمبر 1972ء؛ انٹرویو: محمد اقبال اظہری، ماہنامہ مصطفائی نیوز، کراچی، دسمبر 2008ء)۔
17دسمبر 1972ء کو ”یوم انتقام“ منایا گیا۔ اس سلسلے میں کراچی میں منعقدہ جلسے سے پروفیسر شاہ فرید الحق، شکیل احمد صدیقی اور انجمن کے راہ نماؤں نے خطاب کیا(روزنامہ حریت، کراچی، 19دسمبر1972ء)۔26-25دسمبر1972ء کو ٹنڈو آدم میں منعقدہ صوبائی کنونشن کے اختتام پر بنگلہ دیش منظوری کے خلاف جلوس نکالا گیا۔
3جنوری 1973ء کو جب حکومتِ وقت نے بنگلہ دیش منظوری کے لیے نشتر پارک کراچی میں جلسہ منعقد کیا تو انجمن طلباء اسلام کا ایک جیالا کارکن عبدالواحد بلوانی   { متوفی 27 جون 2022}  تمام تر حفاظتی انتظامات کے باوجود اسٹیج پر پہنچ گیا۔ جلسے میں صدرِ مملکت ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی تقریر کے دوران جب شرکاء سے پوچھا کہ کیا بنگلہ دیش منظور ہے؟  تو عبدالواحد نے ”نامنظور، نا منظور“کا زور دار نعرہ بلند کیا۔اس نعرے نے پورے جلسے کی بساط ہی پلٹ دی اور ہر طرف سے بنگلہ دیش نامنظور کے نعرے بلند ہونے لگے۔بعد میں اس نعرے نے ایک تحریک کی شکل اختیار کرلی۔ عبدالواحد کو جرأت کے اس اظہار کے نتیجے میں تشدد اور جیل کی سزا جھیلنی پڑی۔ ایام اسیری میں حکام نے عبد الواحد بلوانی کے والد، وکیل اور انجمن کے راہنماؤں کو بھی اِن سے ملاقات کرنے کی اجازت نہ دی (روزنامہ حریت کراچی، 5جنوری 1973ء؛ روزنامہ جنگ کراچی،5جنوری اور 9جنوری1973ء)۔اس واقعہ کا ذکر پاکستان پیپلز پارٹی کی ویب سائٹ پر ان الفاظ میں ہے:۔
"However, at the meeting a section of the crowd reacted in the negative when the President put it to them whether or not Pakistan should recognize Bangladesh. Responding to their reaction, the President said if the people disagreed with the proposition, he would also say "Na Manzoor, Na Manzoor, Na Manzoor." (www.bhutto.org  Speech at a public meeting in Karachi on January,3 1973)
وطن کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے                                                   
                              وہ قرض اتارے ہیں، جو واجب بھی نہیں تھے
 مشرقی پاکستان میں بھارتی جارحیت کے نتیجے میں پاکستان کا تقریباً5ہزار مربع میل علاقہ بھارت کے قبضے میں تھا اور تقریباً  93ہزار پاکستانی فوجی بھارت کی قید میں تھے۔ بھارتی جارحیت کے خلاف اور فوجیوں کی رہائی کے لیے انجمن نے اپنا پہلا تنظیمی ہفتہ ”ہفتہ بیداری عالمی ضمیر“22تا 28جون 1973ء منایا۔ہفتہ کا آغاز مختلف مساجد میں قرآن خوانی سے ہوا (روزنامہ جنگ کراچی 23جون1973ء)۔ ہفتہ کے سلسلے میں 24جون کو خالقدینا ہال کراچی میں جلسہ ہوا جس سے قائدِحزبِ اختلاف سندھ اسمبلی پروفیسر شاہ فرید الحق، ظہور الحسن بھوپالی اور احمد ای ایچ جعفر نے بھی خطاب کیا۔ 5جولائی 1973ء کو ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی میں جلسہ منعقد کیا گیا۔
 اس موقع پر انجمن کے صدر شکیل احمد صدیقی نے قومی اسمبلی کے اراکین کو ایک خط تحریر کیا، جس میں انھوں نے اراکینِ اسمبلی کی توجہ بھارت میں قید پاکستانی فوجیوں کی طرف دلائی گئی(خط: ماہنامہ ترجمان اہلسنت، کراچی، دسمبر1972ء)۔ انجمن کے صدر نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے نام بھی ایک خط لکھا،جس میں انھوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے سوال کیا کہ بھارت نے جن 195جنگی قیدیوں کو روک لیا ہے وہ کن اصولوں کے تحت روکا ہے۔ صدر انجمن نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ قیدیوں کی رہائی کے لیے فوری مداخلت کریں (روزنامہ جنگ کراچی، 2ستمبر 1973ء)۔ سابق صدر محمد حنیف طیب نے ایک مضمون بعنوان ”جنگی قیدیوں کے ساتھ بھارت نے کیا سلوک کیا؟، تحریر کیا جو عالمی ریڈکراس کی رپورٹ کے جائزے پر مبنی تھا۔ مضمون مختلف رسائل میں شائع ہوا(مضمون: ماہنامہ ترجمان اہلسنت، کراچی،نومبر1973ء)۔
 18جولائی 1973ء سے طلبہ نے بنگلہ دیش منظوری کے خلاف عوامی رابطہ مہم چلائی۔ ”بنگلہ دیش نامنظور تحریک“ کا آغاز طلبہ نے کیا جبکہ سیاسی پارٹیاں بعد میں متحرک ہوئیں۔ تحریک کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ طلبہ کو اپنی طاقت کا اندازہ ہوگیا، دوسری طرف حکومتی مقبولیت کا بھرم کھل گیا۔
بنگلہ دیش نامنظور تحریک کا نعرہ بلند کرنے والے، انجمن طلبہ اسلام کے کارکن عبدالواحد بلوانی گذشتہ دنوں ہم سے بچھڑ گئے ،عبدالواحد انجمن کے ایک نڈر ، متحرک، زندہ دل اور بے لوث کارکن تھے۔ مختلف اشوز پر اپنے تحفظات کا اظہار بڑے دوستانہ اور بے تکلفانہ انداز میں کرتے تھے۔ ایک زمانے میں آپ نے جراتمندانہ طور  شیئرز کا کام کرنے والی سیکیورٹیز اور انویسٹمنٹ کمپنیوں کو برِی طرح پریشان کرکے رکھ دیا تھا۔ انجمن کے سابق سیکریٹری جنرل جناب حافظ محمد تقی شہید پر لکھی گئی ہماری کتاب میں ، ان کا مخلصانہ تعاون شامل رہا۔  عید میلاد النبی پر نشتر پارک میں اور حافظ صاحب کی برسی کی تقریبات میں ان سے اکثر ملاقات ہو جاتی تھیں۔ آپ ایک عرصے سے  مختلف بیماریوں  بالخصوص رعشہ کی بیماری میں مبتلا تھے ۔ اللہ ان کی خدمات قبول فرمائے۔ اور انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔
   آ مین۔    تحریر معین نوری

 

 

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مصطفائی نیوز Designed by # Copyright © 2014

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.