بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ عظیم باپ کا عظیم بیٹا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : احمد ثبات قریشی الہاشمی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
10 جنوری 2016 کا سورج طلوع اس کی روشنی میں نہ وہ تمکنت تھی اور نہ ہی ہیبت ایک خاموش صبح کا آغاز ہوا سورج کی متانت پر دھند نے اپنی چادر اوڑھ رکھی تھی یوں گمان ہوتا تھا شاید یہ اداسی کئی دنوں کی تپسیا کا نتیجہ ہے۔ شاید آج زمین اپنی گود میں کسی کو لینے کے لیئے بے تاب ہے، شاید سورج اب وہ رونق نہ دیکھ پائے گا جب وہ شہرِ لائلپور (فیصل آباد) پر اپنی کرنیں پھیلاتا تو "مولا یا صلِ وسلم دائماً اَبَداً" کی صدا بلند کیئے ایک درویش دیوانہ وار تصور میں گنبدِ خضراء کی تصویر سجا کر نغمۂِ حُب پڑھ رہا ہوتا۔
لیکن آج جب سورج کی کرنیں پھیلیں تو اس درویش کے چہرے پر تبسم آگیا پندرہ دنوں سے بیماری کے ساتھ لڑ لڑ کر اب اس درویش کا جسم تھک چکا تھا اور روح وصل کے لطف سے آشنائی کے لیئے جسم کے پنجرے سے آزاد ہونے کےلئے بے تاب تھی۔
آنکھیں بند کیئے یہ شخصیت شہرِ لائلپور (فیصل آباد) کی عظیم دینی و روحانی درسگاہ جامعہ قادریہ کے منتظمِ اعلیٰ صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری تھے۔چہرے پر جب نزع کی کیفیت طاری ہوئی تو زبان بے اختیار حرکت میں آگئی اور قصیدہ غوثیہ کے الفاظ جاری ہو گئے
سَقَانِی الْحُبُّ کَاْسَاتِ الْوِصَالِ
عشق و محبت نے مجھے وصل کے پیالے پلائے
فَقُلْتُ لِخَمْرَتِیْ نَحوِیْ تَعَالِ
پس میں نے اپنی شراب معرفت سے کہا کہ میری طرف آ
سَعَتْ وَمَشَتْ لِنَحوِیْ فِیْ کُؤُسٍ
پیالوں میں “بھری ھوئی”وہ شراب میری طرف دوڑی
فَھِمْتُ بِسُکْرَتِیْ بَینَ الْمَوَالِیْ
پس میں اپنے احباب کے درمیان نشۂ شرابِ معرفت سے مست ھوگیا
الفاظ زبان سے یوں جاری ہو رہے تھے جیسے شاہِ بغداد پیرانِ پیر شیخ عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری کے سامنے براجمان ہیں اور انہیں اپنے دستِ مبارک سے مئے غوثیہ نوش فرما رہے ہیں۔آواز اکھڑی زبان کپکپائی مگر الفاظ کا تسلسل نہ تھما وقت ٹھہر گیا اور غوثِ ثقلین رحمتہ اللہ علیہ کا یہ غلام دامنِ شاہِ بغداد تھامے واحدہٗ لاشریک کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ یہ منظر دیکھنا تھا تو کمرے موجود ایک صاحب بے اختیار بول اٹھے
یاَ اٴَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةّ ارْجِعِی اِٴلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَرْضِیَّةً فَادْخُلِی فِی عِبَادِی وَ ادْخُلِی جَنَّتِی
"اے اطمینان والی جان۔اپنے رب کی طرف اس حال میں واپس آ کہ تو اس سے راضی ہو وہ تجھ سے راضی ہو پس میرے بندوں میں شامل ہو اور میری جنت میں داخل ہو جا"۔
صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ کی پوری حیات ایک متحرک و مشقت سے بھرپور زندگی دکھتی ہے۔ آپ کے والدِ بزرگوار حضرت عبد القادر قادری (رحمتہ اللہ علیہ) محدثِ اعظم پاکستان حضرت مولانا سردار احمد (رحمتہ اللہ علیہ) کے قریبی رفقاء میں سے تھے۔ آپ نے لائلپور فیصل آباد میں جامعہ قادریہ کے نام سے ادارے کی بنیاد رکھی ایسا ادارہ جس میں دینی تعلیم عشقِ مصطفیٰ کریم صل اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ وسلم کی حلاوت کے ساتھ دی جاتی تھی۔جہاں "مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام" کا ترانہ صبح و شام گونجتا نظر آتا ۔ محدثِ اعظم پاکستان مولانا سردار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی تربیت کا اثر تھا کہ مولانا عبد القادر کے قلب و زبان پر ہر وقت ذکرِ مصطفیٰ کریم صل اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ وسلم کے نغمے جاری رہتے۔ افسوس کہ حاسدین کو آپ ایک آنکھ نہ بھاتے اور ایک روز جامعہ قادریہ کی مسجد کے صحن میں ایک حاسد نے خنجر کے وار کر کے آپ کو شہید کر دیا۔ خلیق قریشی (مرحوم) نے مولانا عبد القادر کی شہادت پر تڑپتے دل کے ساتھ لکھا
کوئی دیکھ سکے یہ جراحتیں کوئی جان سکے یہ قیامتیں
جسے عشقِ رسولِ کریم تھا وہ "شہید بہ خنجرِ جور" ہے
مولانا عبد القادر کی شہادت کے وقت صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری کم و بیش آٹھ برس کے معصوم بچے تھے۔ پہاڑ جیسی زندگی اور زمہ داریوں کا بوجھ۔ والد کا سایۂِ شفقت اُٹھ جانے کے بعد عمومی طور پر بچے غلط عوامل میں مشغول ہو جاتے ہیں لیکن مولانا عبد القادر کی دعاؤں کا ثمر مولانا معین الدین شافعی (رحمتہ اللہ علیہ) کی شکل میں ظاہر ہوا۔ مولانا معین الدین شافعی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ مولانا عبد القادر رحمتہ اللہ کے قریبی رفقاء میں سے تھے نے خانوادۂِ مولانا عبد القادر کے سر پر اپنا شفقت بھرا ہاتھ رکھ دیا اور جامعہ قادریہ کی تمام تر زمہ داریاں اپنے کاندھے پر لے لیں۔ مولانا معین الدین شافعی (رحمتہ اللہ علیہ) نے صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری اور ان کے بھائیوں صاحبزادہ ضیاء المصطفیٰ نوری اور صاحبزادہ رضاء المصطفیٰ نوری کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دینا شروع کر دی اولادِ مولانا عبد القادر رحمتہ اللہ کو نہ صرف دینی تعلیم سے آراستہ فرمایا بلکہ دنیاوی تعلیم میں بھی کمی نہ آنے دی۔ وقت گزرتا گیا جامعہ قادریہ اور خانوادۂِ مولانا عبد القادر (رحمتہ اللہ علیہ) مولانا معین الدین شافعی (رحمتہ اللہ علیہ) کے زیرِ سایہ پروان چڑھتے رہے۔ مولانا معین الدین شافعی (رحمتہ اللہ علیہ) تادمِ مرگ اپنے عہد کو وفا کرتے رہے اور ایک روز داعی حق کو لبیک کہتے ہوئے اس دنیا سے کوچ فرما گئے اور اپنے ساتھی مولانا عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ کے پہلو میں دفن ہوئے۔
مولانا معین الدین شافعی رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ نے جامعہ قادریہ کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی۔ خونِ مولانا عبد القادر کا اثر اور مولانا معین الدین شافعی کی تربیت کا ثمر آپ کی شخصیت میں عجب نکھار لے آیا تھا۔ آپ کی شخصیت میں شاہ عبد الحق دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کی تحقیق، علامہ احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا سوز، مولانا سردار احمد رحمتہ اللہ علیہ کی فصاحت، مولانا عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ کا حِلم اور مولانا معین الدین شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا تدبر واضح نظر آتا تھا
آپ نے جامعہ قادریہ کی زمہ داریاں سنبھال کر اس دینی ادارے کو نئے و جدید اسلوب کے ساتھ مزین کیا۔ دینی درسگاہ کے ساتھ جدید تعلیم کو بھی اپنے ادارے میں روشناس کروایا ایک ایسا ادارہ تعمیر کیا جہاں دینی و دنیوی تعلیم یکساں دی جاتی تھی۔ بچیوں کے لیئے علیحدہ اسکول و کالج کی بنیاد رکھی جامعہ میں موجود طلبہ و طالبات کو جدید علوم سے روشناس کرانے کا انتظام کیا۔ تاکہ یہاں کے طلبہ و طالبات دنیا کے ساتھ قدم بہ قدم چل سکیں۔یہی وجہ تھی کہ اس ادارے میں بڑے بڑے جید علماء زیرِ تعلیم رہے جیسے مولانا سعید احمد اسعد رحمتہ اللہ علیہ، مولانا ثاقب رضا مصطفائی اور ان جیسے بے شمار باکمال علماءِ کرام اس ادارے سے فیض یاب ہو کر پوری دنیا میں پھیل گئے اور شمعِ توحید و رسالت کے داعی بنے۔
آپ کو رب کریم نے بے پناہ صلاحیتوں سے نواز رکھا تھا۔ آپ جانتے تھے انسانی ضروریات میں سب سے اہم ضرورت فکرِ معاش پورا کرنا ہے لہٰذا آپ نے اخوت ٹرسٹ جیسے ادارے میں اپنا فعال کردار ادا کیا اور اخوت ٹرسٹ کے اہم اراکین میں آپ کا شمار ہونے لگا۔ اپنے وسائل اور تعلقات کو استعمال میں لا کر بے شمار لوگوں کو برسرِ روزگار کرنا آپ کے معمولات میں سے ایک تھا۔اس ضمن میں جہاں تک ممکن ہوتا اپنی پوری کوشش کرتے اور جب تک نتائج نہ حاصل کرتے چین سے نہ بیٹھتے۔
حاجی حنیف طیب جب وزیرِ مذہبی امور منتخب ہوئے تو انہوں نے صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری کو اپنے مشیر کی حیثیت سے زمہ داریوں سے نوازا۔ آپ نے اپنے دور میں ایک قانون بنوایا کہ کسی بھی پٹرول پمپ کو اس وقت تک این او سی جاری نہ کیا جائے جب تک وہاں مسجد اور واش روم کی سہولت نہ دی جائے آج پورے ملک میں جہاں بھی پٹرول پمپ پر مساجد موجود ہیں اس کا اجر ان شاءاللہ صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ کو پورا پورا پہنچتا ہوگا کہ یہ آپ کی سفارش پر قانون بنایا گیا تھا۔
جب موٹر وے کی تعمیر کا آغاز ہوا تو آپ نے فوری اسلام آباد کا رُخ کیا اور اپنے ذرائع کے ذریعے یہ قانون بنوایا کہ ہر قیام و طعام پر مسجد کی تعمیر لازماً کی جائے گی آپ کی اس کاوش میں میاں محمد حنیف آف مدینہ گروپ اور حاجی شیخ طیب آف طیب گروپ آف انڈسٹریز نے لبیک کہا اور اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لا کر مساجد کی تعمیر کا آغاز کیا۔ صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ کی تعمیری کاوشوں کا جب بھی ذکر کیا جائے گا تو ان دونوں شخصیات میاں محمد حنیف اور حاجی شیخ محمد طیب کے نام ہمیشہ جلی حروف میں لکھے جائیں گے یہ وہ شخصیات ہیں کہ جنہوں نے کشمیر سے لے کر بحرِ عرب کے ساحلوں تک صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ کی سفارش پر مساجد کا ایسا جال بچھایا کہ ہر سو اللہ اکبر کی آوازیں گونج اٹھیں۔
جب خارجی جماعت داعش خطۂِ عرب میں اپنے پنجے گاڑھ رہی تھی اور معصوم انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے میں مصروف تھی تب صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ بہت بے چین رہنے لگے ظلم تو یہ ان بدبختوں نے مساجد اور انبیاء و اولیاء کے مزارات پر بھی بمب دھماکے شروع کر دیئے جس سے بے شمار مساجد و مزارات شہید کر دیئے گئے۔ صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس مشکل ترین دور میں اپنے دونوں ساتھیوں میاں محمد حنیف اور حاجی شیخ محمد طیب سے گذارش کی کہ ان شہید مساجد و مزارات کی ازسرِ نو تعمیر کی کوشش کی جانی چاہئیے جس پر دونوں شخصیات نے لبیک کہا اور صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ نے شام، عراق اور عرب ریاستوں کا دورہ کیا اور اپنی زیرِ نگرانی شہید مساجد و مزارات کی ازسرِ نو تعمیر کی۔
آپ حُبِّ مصطفیٰ کریم صل اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ وسلم میں غرق شخصیت تھے۔ ہر لمحہ عشقِ مصطفیٰ کریم صل اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ وسلم کی شمع جلائے رکھنا آپ کی زندگی کا مقصد تھا۔ جامعہ قادریہ کے ذریعے تو آپ یہ زمہ داری نبھا ہی رہے تھے لیکن اپنے قریبی رفقاء کے قلوب کو بھی اس شمع سے روشن کرنے میں ہمیشہ سرگرداں رہے۔ آپ نے اپنے احباب کی ایک خوبصورت انجمن بنا رکھی تھی جن میں معروف مذہبی اسکالر ڈاکٹر محمد اسحٰق قریشی (مرحوم) ، رانا محمد سعید(سابق ڈی جی فوڈ)، معظم بن ظہور (سابق ڈائریکٹر کالجز) ڈاکٹر غلام قادر فیاض، پروفیسر عبدالرؤف روفی (معروف نعت خواں)، ڈاکٹر محمد اعظم بخاری،ڈاکٹر عبد الشکور ساجد(مرحوم)، حاجی میاں شوکت، ڈاکٹر ریاض مجید، پروفیسر جاوید اسلم باجوہ اور کثیر تعداد ساتھیوں کی تھی۔ ان احباب نے اپنے اپنے گھروں میں ماہانہ محافل کے انعقاد کا ایسا سلسلہ شروع کیا جس سے تاریک دلوں کو عشقِ مصطفیٰ کریم صل اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ وسلم کی شمع سے روشن کیا جانے لگا۔ ہر سو حمدِ ربی و نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ و علیٰ آلہٖ وسلم کے نغمے گونج اٹھے اور حمد و نعت کی ایسی تسبیح تشکیل دی گئی جس کا ہر دانہ اپنے اندر "صَلِّ عَلٰی نَبِیِّنَا صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ" کے ذکر سے سرشار دِکھنے لگا۔
مولانا عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ کا لگایا بیج جامعہ قادریہ جس کی آبیاری مولانا معین الدین شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اور صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تمام تر توانائیاں لگا کر اسے ایک تن آور درخت بنایا آج الحمدللہ اپنے پورے جوبن پر ہے آپ کے وصال کے بعد الحمدللہ صاحبزادہ ضیاء المصطفیٰ نوری، صاحبزادہ رضاء المصطفیٰ نوری اور صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ کے صاحبزادگان حسن مصطفیٰ نوری ، جنید مصطفیٰ نوری ، حسین مصطفیٰ نوری اور جامعہ قادریہ اور ایمز سکول و کالج کے اساتذہ و منتظمین بڑی محنت اور لگن سے اس شجر کی آبیاری میں مصروف ہیں
دعا ہے کہ رب عزوجل صاحبزادہ عطاء المصطفیٰ نوری رحمتہ اللہ علیہ کے درجات اپنی شان کے مطابق بلند فرمائے اور ان کی تمام تر دینی و معاشرتی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرما کر ان کے لیئے صدقۂِ جاریہ بنائے اور ان کے اداروں کو تاقیامت دین کی خدمت کی توفیق سے نوازے آمین

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں