اہم خبریں

ایک عظیم عاشق رسول کا سانحہ ارتحال ✏ از قلم : ڈاکٹر طارق محمود

 



ایک عظیم عاشق رسول کا سانحہ ارتحال


انجمن طلباء اسلام راولپنڈی کے ابتدائی کارکن اور سابق ناظم راولپنڈی شہر و ڈویژن میاں عبد القیوم ترازی ایڈوکیٹ ھائی کورٹ چیرمین پاکستان نعت کونسل پاکستان کا سانحہ ارتحال دل کو ازحد دکھی کر گیا کیونکہ آپ سے 46 سالہ پرانا اور اس وقت کا تنظیمی و ذاتی تعلق تھا جب میں راولپنڈی میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کا اور مرحوم میٹرک کے طالب علم تھے۔اتفاق سے ھمیں بھی کینٹ کے ٹینچ بھاٹہ نامی اسی مشہور علاقے میں رھائش اختیار ملی جہاں ترازی میاں رھتے تھے۔اس علاقے میں انجمن طلباء اسلام کا فعال ترین یونٹ بھی تھا جس کا آفس مسجد المینار مین بازار میں تھا جہاں جانے کے لئے مجھے ترازی مرحوم کے گھر کے پاس سے گزرنا ھوتا تھا اس طرح ھم نے اکٹھے مسجد آنا جانا بھی شروع کر دیا۔علاوہ ازیں چونکہ راولپنڈی اسلام آباد میں تمام تنظیمی کام راولپنڈی میڈیکل کالج کے دو راھنمذوں ڈاکٹر میاں محمد صدیق اور ڈاکٹر محمد ظفر اقبال نوری صاحبان کی زیر قیادت ھو رھا تھا اس لئے میرے ذمہ یونٹ کے کام کے حوالے سے رابطہ کاری بھی تھی جس کا میاں عبد القیوم مرحوم بھی حصہ تھے۔

دیگر باتوں کے علاؤہ ھم دونوں مسجد المینار کے خطیب سید ریاض حسین کٹنالوی کے شیدا اور خدمت گار بھی تھے۔یاد رھے کہ اس وقت ایک چھوٹی سی مسجد کے یہ خطیب صاحب وہ شخصیت ھیں جو آج مفسر قرآن علامہ سید ریاض حسین شاہ صاحب کے نام سے پہچانی جاتی ھے۔

ترازی مرحوم بچپن ھی سے ایک متحرک،جذباتی، بےباک اور انتھک کارکن تھے جو ھر تنظیمی ٹاسک اور پروگرام کے انتظامات میں پیش پیش ھوتے تھے۔خاص طور پر ربیع الاول شریف میں ان کا تحرک قابل دید ھوتا تھا جب وہ عید میلاد النبی کے سلسلے میں میلوں لمبے ٹینچ بازار میں بینرز اور جھنڈیاں لگانے میں دن رات ایک کر دیتے تھے اور میلاد النبی کے پروگراموں و جلوسوں میں آگےبڑھ بڑھ کر سیدی مرشدی یانبی یا نبی کے پرجوش نعرے لگوانا تو مرحوم کا خاصہ تھا۔آپ کو ابتداء ھی سے ھی تنظیمی پروگرام ھوسٹ کرنے کا خصوصی شوق تھا اور وہ محفل میں رنگ بھرنے کے ماھر تھے۔اس زمانے میں وال چاکنگ کا بہت زور تھا اور ترازی مرحوم کا خط بھی اچھا تھا۔علاوہ ازیں اسٹینشل کے ذریعے چاکنگ میں بھی آپ کو مہارت تھی اس لئے ٹینچ بھاٹہ ھی کیا مری سے سوھاوہ تک ھر موڑ پر انہیں کے دم قدم سے انجمن ھی انجمن نظر آتی تھی۔دو سال کے بعد میں ٹینچ بھاٹہ سے میڈیکل کالج ھوسٹل شفٹ ھو گیا لیکن پیار بھرا تنظیمی و ذاتی تعلق ھمیشہ قائم رھا۔ھر جمعہ کے روز پہلے ٹینچ بھاٹہ اور بعد ازاں چونگی نمبر 22 کی جامع مسجد میں سید ریاض حسین شاہ صاحب کی اقتداء میں نماز جمعہ کے بعد اکثر ملاقات ھوتی رھتی تھی۔

1986 میں جب راقم مستقل بنیادوں پر راولپنڈی سے منڈی بہاوالدین شفٹ ھوا تو اگرچہ ظاھری رابطہ کٹ گیا لیکن ایک پرجوش،جاںثار اور سر سے پاؤں تک ڈوبے ھوئے عاشق رسول کی حیثیت سے ترازی مرحوم کا تاثر ھمیشہ ذھن میں موجود رھا جس کی وجہ سے انہیں ھمیشہ احترام کا ایک خاص مقام دیا۔وقت گزرتا گیا اور میرا راولپنڈی کے سابقہ تنظیمی ساتھیوں سے رابطہ منقطع ھی رھا لیکن بھلا ھو فیس بک کا جس کے ذریعے آج سے تقریباً دس سال قبل  ترازی مرحوم سے دوبارہ رابطہ ھوا جس کی خوشی بیان سے باھر تھی۔جلد ھی ایک کام کے سلسلے میں اسلام جانا ھوا تو خصوصی طور پر وقت لے کر ڈسٹرکٹ کورٹ میں ان کے چیمبر پر حاضری دی تو انہوں نے پیار اور ادب کی انتہا کر دی۔خوب آو بھگت کی اور کھانے پر بے حد اصرار کیا۔مجھے یہ جان کر ازحد مسرت ھوئی کہ ھمارا یہ تنظیمی ساتھی دیگر اکثر احباب کی طرح ضائع ھونے سے بچ گیا ھے اور اس نے تن تنہا پاکستان نعت کونسل انٹرنیشنل جیسی ملک گیر تنظیم کھڑی کر دی ھے جو پنجاب کے اکثر اضلاع سمیت کے پی کے،چترال و شمالی علاقہ جات کے علاؤہ آزاد کشمیر کے تعلیمی اداروں کے طلبا کے دلوں میں عشقِ رسول کریم کی شمع کو فروزاں کرنے اور بامعنی نعت رسول مقبول کے فروغ کے لیے بھرپور خدمات سر انجام دے رھی ھے۔جب راقم نے مرحوم کو اس عظیم الشان کاوش پر ھدیہ تبریک پیش کیا تو انہوں نے انکساری کی حد کرتے ھوئے فرمایا کہ آپ تو ھمیں اس طرف لگانے والے اور واجب الحترام استاد ھیں  جنھوں نے یہ بوٹا لگایا ھے ورنہ بندہ کس کام کا ھے۔بس وہ دن اور آج کا دن کئی ملاقاتیں ھوئیں اور انہیں پنجاب کے جس علاقے میں بھی پروگرام کروانے میں کوئی دقت پیش آتی تو فورا مجھے حکم کرتے جس کی تکمیل کرکے مجھے دلی مسرت ھوتی۔لاھور اور منڈی بہاوالدین کے اضلاح ویسے ھی انہوں نے میرے ذمے لگا رکھے تھے۔اس سال بھی سپیرئیر کالجز پھالیہ و منڈی بہاوالدین میں میری وساطت سے رابطے مکمل ھو چکے تھے کہ ان کا سانحہ ارتحال ھو گیا۔

یوں تو میاں عبد القیوم ترازی مرحوم کا تعلق ایک انتہائی سفید پوش گھرانے سے تھا لیکن شروع ھی سے رب کریم نے انہیں کھلا دل عطا کیا تھا جس کی وجہ سے وہ تنظیم اور تنظیمی ساتھیوں پر دل کھول کر خرچ کرتے تھے۔آپ نے مالی مشکلات کے باوجود قانون کی تعلیم مکمل کی اور وکالت کے شعبے میں نیک نامی کمائی۔ھر وکیل کی طرح وکالت آپ کا ذریعہ روزگار تھا جس کےلئے دستیابی سب سے ضروری امر ھوتا ھے لیکن میری حیرت کی انتہا ھو جاتی جب وہ آزادکشمیر اور شمالی علاقہ جات و چترال کے علاقوں میں نعتیہ مقابلوں کے سلسلے میں ھفتوں تک راولپنڈی سے باھر رھتے جبکہ مہینے میں کم از کم دس دن تو وہ ضرور نعتیہ مقابلوں کے سلسلے میں آوٹ آف اسٹیشن ھوتے تھے۔یقینا اس دوران ان کی پریکٹس کو نقصان تو ضرور پہنچتا ھو گا جو کوئی بھی مڈل کلاس شخص برداشت نہیں کر سکتا لیکن عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دھن میں انہوں نے کبھی اس چیز کی پرواہ نہ کی بلکہ ان سارے ٹورز اور پروگراموں کے اخراجات بھی وہ اپنے وسائل سے ھی پورے کرتے تھے جو ایک معجزے سے کم نہیں ھے۔

اس موقع پر مصطفائی احباب کو پاکستان نعت کونسل انٹرنیشنل کے لائحہ عمل سے متعارف کروانا ضروری ھے کیونکہ یہ تنظیم نوجوانوں خصوصاً سکولوں اور کالجوں کے طلباء میں وہ کام کر رھی ھے جس کی اشد بھی ضرورت ھے اور تنظیمی ذمہ داری بھی ھے۔اس تنظیم کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں نعت خوانی کا ذوق رکھنے والے طلباء و طالبات میں ایک ضابطہ اخلاق کے تحت مقامی و ضلعی سطح پر مقابلہ جائے حسن نعت کروائے جاتے ھیں جس میں صرف شان و کمالات مصطفے بیان کرنے کی اجازت ھوتی ھے جبکہ گانوں یا میوزک کی دھن پر نعت پڑھنے کی اجازت نہیں ھوتی۔بچوں کا باوضو اور  محفل کے دوران سامعین بچوں کا باادب و متوجہ ھونا ضروری ھوتا ھے جبکہ ننگے سر ثناء خوانی کی اجازت نہیں ھوتی۔مقابلے کے آخر میں اجتماعی طور پر صلوہ و سلام پڑھا جاتا ھے جس کے بعد بچوں کی حوصلہ افزائی کے ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کئے جاتے ھیں جن کا بندوست بھی پاکستان نعت کونسل انٹرنیشنل کرتی ںے۔اس طرح ھر مقامی پروگرام میں سے پوزیشن ہولڈر بچوں کو راولپنڈی میں منعقد ھونے والے سالانہ مرکزی مقابلہ حسن نعت میں شرکت کی دعوت دی جاتی ھے جہاں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے ثناء خوانان بچوں اور بچیوں کو موٹر سائیکل سمیت قیمتی انعامات سے نوازا جاتا ھے۔

 یہاں یہ امر قابل ذکر ھے کہ ھر پروگرام میں ججز پر مشتمل نعت کونسل کی ٹیم اپنے خرچے پر پروگرام میں شرکت کرتی ھے اور میزبانوں پر کھانے یا ریفریشمنٹ کا بوجھ تک بھی نہیں ڈالا جاتا۔میزبان اداروں کے ذمہ صرف قریبی تعلیمی اداروں میں اطلاع اور جگہ و سامعین بچوں کی فراہمی ھوتا ھے۔

آج اگر میرے پیارے بھائی میاں عبد القیوم ترازی ایڈوکیٹ بارگاہ ایزدی میں حاضر ھو گئے ھیں تو ان کا مشن اور تنظیم موجود ھے جس کی سرپرستی مصطفائی برادری پر فرض ھے۔امید واثق ھے کے مصطفائی احباب اس حوالے سے خصوصی شفقت فرماتے ھوئے فروغ ثنا خوانی مصطفےٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مشن میں دانے درمے قدمے سخنے تعاون فرمائیں گے۔

رب کریم میاں عبد القیوم ترازی مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے اور ھم سب پر آپ خصوصی فضل و کرم فرمائے۔آمین












کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مصطفائی نیوز Designed by # Copyright © 2014

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.