اہم خبریں

راولپنڈی (پریس ریلیز): جماعت اہلسنت پاکستان کے قائمقام مرکزی ناظم اعلیٰ پروفیسر حمزہ مصطفائی نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی توڑ پھوڑ اور سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کے مجسمے کی بدترین توہین پر مبنی حالیہ واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت

  



*پریس ریلیز*


*جماعت اہلسنت پاکستان کی جانب سے مقدساتِ عالم کی توہین کی شدید مذمت؛ اقوامِ متحدہ اور ویٹیکن کو خطوط لکھنے کا اعلان*

*حضرت عیسی اور حضرت مریم کی توہین مذہبی دھشت گردی ہے: حمزہ مصطفائی*

*مقدسات کی توہین عالمی امن کے خلاف بدترین سازش ہے صاحبزادہ ذیشان معصوم کلیمی*

راولپنڈی (پریس ریلیز): جماعت اہلسنت پاکستان کے قائمقام مرکزی ناظم اعلیٰ پروفیسر حمزہ مصطفائی نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مجسمے کی توڑ پھوڑ اور سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کے مجسمے کی بدترین توہین پر مبنی حالیہ واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام بت پرستی یا صنم تراشی کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن کسی بھی انداز میں کسی بھی مقدس ہستی کی بے ادبی کرنا اور دیگر مسلمہ مذاہب کے پیروکاروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا ایک ناپسندیدہ اور مذموم حرکت ہے۔ اپنے ایک خصوصی بیان میں پروفیسر حمزہ مصطفائی نے کہا کہ انبیاء کرام اور ان سے منسوب مقدسات کی توہین نہ صرف مسلمانوں اور عیسائیوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے، بلکہ یہ عالمی امن کو داؤ پر لگانے کی ایک سوچی سمجھی صہیونی سازش ہے۔ پروفیسر حمزہ مصطفائی نے اعلان کیا کہ دنیا بھر کے علماء کرام صہیونی سازشوں اور عالمی سطح پر پھیلائی جانے والی اس مذہبی منافرت سے عوام اور کو بھرپور طریقے سے آگاہ کریں گے تاکہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اہلسنت پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ ان واقعات میں ملوث اسرائیلی فوجیوں کو "جنگی مجرم" اور "مذہبی دہشت گرد" قرار دیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ محض چند دنوں کی قید یا محکمانہ کارروائی عالمی سطح پر ہونے والی اس اذیت کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ پروفیسر حمزہ مصطفائی نے کہا کہ جماعت اہلسنت پاکستان اس سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل، پوپ فرانسس اور چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ کو باقاعدہ احتجاجی خطوط لکھے گی۔ ان خطوط میں مطالبہ کیا جائے گا کہ تمام انبیاء اور مقدساتِ عالم کی ناموس کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر ایک جامع قانون سازی کی جائے تاکہ کوئی بھی گروہ یا فوج کسی بھی مذہب کی مقدس شخصیات کی توہین کی جرات نہ کر سکے۔ پروفیسر حمزہ مصطفائی نے پوپ اور چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ پر زور دیا کہ وہ خاموشی توڑیں اور مقدسات کی حرمت کے تحفظ کے لیے اپنا مؤثر عالمی کردار ادا کریں، کیونکہ یہ محض کسی ایک مذہب کا نہیں بلکہ انسانیت اور تمام ادیان کی مذہبی اقدار کا مقدمہ ہے۔ جماعت اہلسنت پاکستان کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات صاحبزادہ ذیشان معصوم کلیمی نے اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کی شان میں کی جانے والی گستاخیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے صہیونی ریاست کا مکروہ چہرہ قرار دیا ہے۔ ​اپنے مذمتی بیان میں صاحبزادہ ذیشان معصوم کلیمی نے کہا کہ یہ واقعات محض انفرادی فعل نہیں بلکہ ایک مخصوص ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں جو دنیا کو مذہبی تصادم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کے یہ نام نہاد فوجی درحقیقت مذہبی دہشت گرد ہیں جنہوں نے پوری انسانیت کے مشترکہ مقدسات کو نشانہ بنا کر ثابت کر دیا ہے کہ انہیں کسی بھی آسمانی دین یا اخلاقی ضابطے کا کوئی احترام نہیں۔ انسانی حقوق اور مذہبی آزادیوں کا راگ الاپنے والی عالمی تنظیموں کی ان لرزہ خیز واقعات پر خاموشی مجرمانہ ہے۔ کیا انبیاء کی توہین پر عالمی قوانین خاموش رہیں گے؟ لہذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان فوجیوں کو بین الاقوامی قوانین کے تحت جنگی جرائم کا مجرم قرار دے کر نشانِ عبرت بنایا جائے۔ محض رسمی تحقیقات عالمی برادری کے غصے کو ٹھنڈا نہیں کر سکتیں۔​اتحادِ امت اور بیداری: علماء کرام اور دانشوروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ صہیونی سازشوں کے خلاف صف آراء ہوں اور عوام کو ان فتنوں سے آگاہ کریں۔ ​صاحبزادہ ذیشان معصوم کلیمی نے واضح کیا کہ جماعت اہلسنت پاکستان مقدساتِ عالم کی ناموس کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور اس سلسلے میں مرکزی قیادت کی ہدایت کی مکمل تائید کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھے گی۔


*جاری کردہ:*


صوبائی میڈیا سیل،

*جماعت اہلسنت پاکستان صوبہ پنجاب*

زیرِ قیادت: *صاحبزادہ ذیشان معصوم کلیمی*

صوبائی سیکرٹری اطلاعات و نشریات



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مصطفائی نیوز Designed by # Copyright © 2014

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.