اہم خبریں

خاموشی ٹوٹی، چراغ پھر جلنے لگے ازپیر سعید چشتی

 



خاموشی ٹوٹی، چراغ پھر جلنے لگے

ڈاکٹر ظفر اقبال نوری کا دورۂ یورپ اور ایک نئی تنظیمی بیداری

بعض شخصیات صرف اپنے عہد کی نمائندگی نہیں کرتیں بلکہ وقت گزرنے کے بعد بھی ان کی موجودگی ایک حوالہ بن کر زندہ رہتی ہے۔ ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب بھی ایسی ہی شخصیات میں سے ہیں۔ انجمن طلبہ اسلام کے سابق مرکزی صدور میں ان کی شخصیت اپنی فکری گہرائی، تدبر، معاملہ فہمی، اصول پسندی اور صوفیانہ مزاج کے باعث ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔

انجمن طلبہ اسلام کی تاریخ میں آنے والے بیشتر صدور شریف النفس، متقی، بااصول اور اپنی ذمہ داریوں سے مخلص رہے ہیں، مگر ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب کے مزاج میں ایک ایسی فکری وسعت اور معاملہ فہمی نظر آتی ہے جو انہیں اپنے معاصرین سے ایک الگ شناخت عطا کرتی ہے۔ وہ محض تنظیمی کارکن یا سابق عہدیدار نہیں بلکہ ایک صاحبِ مطالعہ، صاحبِ فکر اور صاحبِ تجربہ شخصیت ہیں۔

طویل عرصے سے امریکہ میں مقیم ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب نے دیارِ غیر میں بھی اپنے فکری اور دینی سفر کو جاری رکھا۔ تبلیغِ اسلام، نوجوانوں کی تربیت، پاکستانی نژاد نئی نسل سے تعلق، ایک خوبصورت اسلامک سنٹر کا قیام اور مسلسل علمی و تصنیفی سرگرمیاں ان کی زندگی کے اہم ابواب ہیں۔ متعدد کتب کی تصنیف ان کے علمی ذوق کی آئینہ دار ہے۔

ان کی حالیہ تصنیف توجہ کی خصوصی مستحق ہے۔ اس کتاب پر تبصرہ کرنا مجھ جیسے کم علم شخص کے لیے شاید مناسب نہ ہو، تاہم اسے پڑھتے ہوئے جو کیفیت دل پر طاری ہوتی ہے، اسے نظرانداز کرنا بھی ممکن نہیں۔ کلام میں محبتِ رسول ﷺ کی خوشبو، فکر میں گہرائی اور اظہار میں ایک ایسی روحانی کیفیت محسوس ہوتی ہے جو قاری کو دیر تک اپنے حصار میں رکھتی ہے۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب کے علمی سفر کے ساتھ ساتھ ان کے قلبی اور روحانی احساسات کی بھی ترجمان محسوس ہوتی ہے۔

اور پھر خاموشی ٹوٹ گئی

شاید اس سارے سفر کا سب سے اہم پہلو ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب کا دوبارہ گوشۂ تنہائی سے نکل کر اپنے پرانے رفقا، دوستوں اور ساتھیوں سے تعلقات کو تازہ کرنا ہے۔

برطانیہ آمد کے بعد سابقینِ انجمن طلبہ اسلام نے جس محبت، عقیدت اور والہانہ پن کے ساتھ ان کا استقبال کیا، وہ محض ایک شخصیت کا استقبال نہیں تھا؛ یہ برسوں پرانے تعلق، محبت اور ایک مشترکہ فکری سفر کی تجدید تھی۔

تقریبات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے، ملاقاتوں کا ہجوم ہے، احباب کی محبت ہے اور مصروفیات اس قدر ہیں کہ امریکہ سے روانگی کے وقت ترتیب دیا گیا شیڈول بار بار تبدیل کرنا پڑ رہا ہے۔ بہت سے احباب کی خواہش کے باوجود ان سے ملاقات نہیں ہو پا رہی۔

برطانیہ کے بعد ترکیہ، اسپین اور اٹلی کے سفر بھی متوقع ہیں، جہاں سابقینِ انجمن طلبہ اسلام ان کی آمد کے منتظر ہیں۔

مگر اس پورے سفر کی اصل اہمیت تقریبات کی تعداد نہیں بلکہ انسانوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی حرکت ہے۔

جمود کے خلاف ایک دستک

کئی برسوں سے خاموش رہنے والے احباب دوبارہ ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔ پرانی یادیں تازہ ہو رہی ہیں، رابطے بحال ہو رہے ہیں، ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہو رہا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک طویل خاموشی کے بعد گفتگو دوبارہ جنم لے رہی ہے۔

یہی کسی زندہ تحریک کی علامت ہوتی ہے۔

ادارے صرف دفاتر، عہدوں اور اجلاسوں سے زندہ نہیں رہتے؛ ادارے تعلق، اعتماد، فکر، مقصد اور اپنے لوگوں کی وابستگی سے زندہ رہتے ہیں۔

ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب کا یہ دورہ اگر اس خاموشی کو توڑنے کا ذریعہ بن رہا ہے تو یہ اس سفر کا سب سے اہم حاصل ہے۔

اس کے اثرات صرف انجمن طلبہ اسلام تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔ سابقینِ انجمن سے وابستہ مصطفائی تحریک، المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی اور دیگر فکری، سماجی اور رفاہی اداروں کے لیے بھی یہ موقع ہے کہ وہ ماضی کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے مستقبل کی نئی سمت متعین کریں۔

پاکستان میں بھی دستک سنائی دے رہی ہے

خوش آئند امر یہ ہے کہ اس تحرک کی بازگشت پاکستان میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔ وہ احباب جو کسی وجہ سے خاموش، ناراض یا مایوس ہو کر گوشۂ تنہائی اختیار کر گئے تھے، ان میں سے بہت سے دوبارہ متحرک ہو رہے ہیں۔

شاید وقت کا تقاضا بھی یہی ہے۔

اختلافات ہر اجتماعی سفر کا حصہ ہوتے ہیں، مگر اختلاف کو دائمی فاصلے میں تبدیل کر دینا کسی ادارے کے مفاد میں نہیں ہوتا۔ وقت گزر جاتا ہے، نسلیں بدل جاتی ہیں اور حالات نئے تقاضوں کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ ایسے میں ضرورت ہوتی ہے کہ پرانے رشتوں کو نئے شعور کے ساتھ زندہ کیا جائے۔

ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب کا موجودہ سفر اسی امکان کی ایک امید افزا جھلک دکھاتا ہے۔

اگلا مرحلہ پاکستان کا ہونا چاہیے

اب اگر ڈاکٹر صاحب جلد پاکستان کا تنظیمی دورہ فرماتے ہیں تو یہ ایک اہم موقع ہوگا۔ میری دلی خواہش اور گزارش ہے کہ ان کی آمد کو محض ملاقاتوں اور تقریبات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں ایک وسیع تر فکری و تنظیمی مشاورت میں تبدیل کیا جائے۔

خصوصاً مصطفائی تحریک پاکستان، المصطفیٰ ویلفیئر سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اداروں کی ری ڈیزائننگ، ری اسٹرکچرنگ اور تنظیمِ نو کے لیے ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب اپنے وسیع تجربے، فکری بصیرت اور بین الاقوامی مشاہدے کی روشنی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی روایات اور خدمات کو محفوظ رکھتے ہوئے اداروں کو موجودہ دور کے تقاضوں، نوجوان نسل کی ضروریات، جدید ابلاغی ذرائع اور مؤثر تنظیمی حکمتِ عملی سے ہم آہنگ کیا جائے۔

اگر یہ عمل اخلاص، مشاورت اور باہمی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھا تو اس کے نتائج محض آج تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ آنے والے برسوں پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

شاید قدرت نے ایک بار پھر ایک خاموش چراغ کو ہوا دی ہے۔

شاید برسوں سے بند دروازوں پر پھر دستک ہوئی ہے۔

شاید پرانے رفیق پھر ایک دوسرے کو آواز دے رہے ہیں۔

اور شاید یہ محض ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب کا دورۂ یورپ نہیں بلکہ بکھرے ہوئے رشتوں کو جوڑنے، جمود کو توڑنے اور ایک نئے فکری و تنظیمی سفر کے آغاز کا موقع ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ اس بیداری کو ہم محض ایک خوبصورت یاد بناتے ہیں یا اسے ایک نئے اور تعمیری سفر میں تبدیل کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ڈاکٹر ظفر اقبال نوری صاحب کو صحت، عافیت، اخلاص اور مزید توفیقات عطا فرمائے اور ان کے علمی، فکری، دعوتی اور تنظیمی سفر کو خیر و برکت کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

مصطفائی نیوز Designed by # Copyright © 2014

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.